اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق نائیجیریا کے سرحدی علاقے بوسو اوردیفا میں جمعے کو ہونے والی جھڑپوں سے بوکوحرام کے ہاتھوں تشدد میں اضافے کا پتہ چلتا ہے لیکن ایسا نظرآتا ہے کہ ان حملوں میں بوکوحرام کو بھاری جانی نقصان اٹھاناپڑا ہے- نائجر کے وزیردفاع نے اعلان کیاہے کہ ان حملوں میں بوکوحرام کے ایک سو نو افراد ہلاک ہوگئے- نائجر کےوزيردفاع نے اس کاروائی کے دوران چارفوجیوں اور ایک عام شہری کی ہلاکت کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں سترہ فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں- چاڈ کے فوجی جنھوں نے بوکوحرام کے ساتھ جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جمعے کے دن ہونے والی جھڑپوں میں نیجر کےفوجیوں کے شانہ بہ شانہ لڑ رہے تھے- ان حملوں میں نائجر میں چاڈ کا فوجی کمانڈر بھی زخمی ہوا ہے- امدادی ٹیم کا کہنا ہے کہ چاڈ کے فوجی پیر کے دن سے بوسو میں تعینات ہوگئے ہيں-اس کے ساتھ ہی نائجر کے وزیردفاع نے اعلان کیا ہےکہ بوسوا ور دیفا کےعلاقے میں امن بحال ہوچکا ہے- نائجر میں یہ جھڑپیں ایسے عالم میں جاری ہیں کہ بوکوحرام کے خلاف علاقائی کوششیں تیز ہوگئي ہیں- تکفیری نظریات کے حامل بوکو حرام گروہ کی کی جانب سے دہشت گردانہ کاروائیوں میں پچھلے چھ برسوں کے دوران کم سے کم تیرہ ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں- اس دوران دوہزارنوسے اب تک دس لاکھ سے زيادہ افراد بےگھر ہونے کی اطلاعات ہيں- نائجر کی حکومت نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ سے درخواست کرےگي کہ وہ چاڈ اور کیمرون کے سپاہیوں کے ساتھ مل کر، بوکو حرام کے خلاف لڑنے کے لئے سرکاری فوج کو نائیجیریا بھیجنے کی اجازت دیدے- القاعدہ سے وابستہ، بوکو حرام سے موسوم اس دہشت گرد گروہ نے سیکڑوں طالبات کو اپنا یر غمالی بنا رکھا ہے-
.......
/169